30 اگست 2013 - 19:30
شام پر حملے کی مخالفت

امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے عوام کی جانب سے شام پر فوجی حملے کی مخالفت کی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود امریکی حکام کی جانب سے شام پر حملے کی دھمکیاں تھمنے میں نہیں آرہی ہیں۔

ابنا: وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنیسٹ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے پیش نظر اپنے اتحادیوں کی شرکت اور عالمی برادری کی تائيد کے بغیر ہی شام پر حملے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کے اعلی عہدیداروں اور عوام کی جانب سے شام کے بحران کے سیاسی حل پر زور دیا جارہا ہے۔ حتی فرانس جیسے امریکہ کے اتحادی نے بھی اپنے ملک کی رائے عامہ کے دباؤ میں آکر شام پر حملے کا اپنا موقف بدل دیا ہے اور وہ بھی اس ملک کے بحران کے سیاسی حل کی بات کرنے لگا ہے۔ اور خود امریکی عوام نے شام پر امریکی حملے کی مخالف میں مظاہرے کۓ ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عراق اور افغانستان پرحملے کے وقت بھی ان کے ملک کی حکومت نے جو جواز پیش کیا تھا اس میں کوئي وزن نہیں تھا اور حکام کے جھوٹ اب ان پر برملا ہوچکے ہیں اس لۓ وہ شام پر حملے کے سلسلے میں اپنے ملک کے حکام پر اعتبار نہیں کرتے ہیں۔ اور ان کو یہ بھی معلوم ہےکہ جب امریکی فوجی شام پر حملہ کریں گے تو شام کے عوام اور فوجی ان کا استقبال نہیں کریں گے بلکہ وہ میزائیلوں کا جواب میزائلوں اور گولیوں کا جواب گولیوں سے دیں گے تو ان کے نتیجے میں صرف شام کے عوام اور فوجیوں کو ہی اپنی جانوں سے ہاتھ نہیں دھونے پڑیں گے بلکہ جنگ لڑنے کے مقصد سے زندہ شام جانے والے بہت سے امریکی فوجی لاشوں کی صورت میں امریکہ واپس لوٹے گے۔ ان اور دوسری وجوہات کی بناء پر امریکی عوام شام پر امریکی فوجی حملے کے مخالف ہیں۔ امریکی عوام ہی کیا دوسرے بہت سے ممالک کے عوام نے بھی مظاہرے کر کے اس جنگ سے اپنی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ ابھی تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شام پر حملے کی اجازت حاصل نہیں کر سکا ہے  اور اگر وہ اس اجازت کے بغیر ہی شام پر حملے کی حماقت کرتا ہے تو یقینا اس جنگ کے نتائج اس کے اندازوں اور مرضی کے خلاف ہی ہوں گے۔ اور اگر امریکہ کو اس جنگ میں اسی طرح ذلت آمیز شکست ہوئي جس طرح صیہونی حکومت کو حزب اللہ کے ہاتھوں سے ہوئي تھی تویہ کوئي تعجب  اور اچنبھے کی بات نہیں ہوگی۔شام کے مسئلے اور امریکہ کی جانب سے اس ملک پرحملے کے بارے میں پاکستان کے ممتاز عالم دین اور مجلس وحدت المسلیمن کے رہنما علامہ صادق تقوی کا انٹرویو سننے کے لۓ نیچے کلک کیجۓ۔

.......

/169